ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مسلم مجاہدین آزادی کے بغیر تاریخ آزادی غیر مکمل 

مسلم مجاہدین آزادی کے بغیر تاریخ آزادی غیر مکمل 

Wed, 17 Aug 2016 10:38:29    S.O. News Service

مہاتما گاندھی کے کردا رپر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے:مولاناحکیم الدین قاسمی 
نئی دہلی؍ انجار،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جمعیۃ علما ء ہند کے زیرِ انتظام قائم جمعےۃ چلڈرن ولیج شاہ زکریا حاجی پیرپبلک اسکول انجار میں جشن آزادی کے حوالے سے ایک پروگرام کاانعقادکیاگیا جس میں پرچم کشائی کی گئی اورادارہ کے طلبا ء نے مجاہدین آزادی اور علما ء کی قربانیوں پرتقاریراورمکالمے پیش کیے ۔اس موقع پرجمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولاناحکیم الدین قاسمی، کملیش بھائی بھاٹیہ اورکرن بھائی بھاٹیہ سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں ، پرچم کشائی کملیش بھائی بھاٹیہ کے ہاتھوں عمل میں آئی، بتاتے چلیں کہ یہ چلڈرن ولیج گجرات انجار میں سال ۲۰۰۱ء میں آئے بھیانک زلزلہ کے بعدقائم کیا گیا ،جمعےۃ کے ذریعہ راحت رسانی اوربازآبادکاری کے عمل کے دوران ایک غیر مسلم نوین چند بھاٹیہ نے مولانا اسعد مدنی ؒ سابق صدر جمعےۃ علماء ہند کو اس مقصد کے لیے ہدیہ کیاتھاجس پر مولانا محمود مدنی جنر ل سکریٹری جمعےۃ علماء ہند کے ذریعہ باضابطہ چلڈرن قائم و دائم ہے، اس ادارہ میں مسلم اورغیر مسلم دونوں طبقوں کے یتیم بچے زیر تعلیم ہیں ۔ جنگ آزادی میں مسلم مجاہدین آزادی کو دانستہ طور سے فراموش کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ ہمارے اسلاف و اکابر نے اس وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھانسی کے پھندوں کو چوما ، صرف دہلی میں ایک دن میں ۲۲؍ہزار مسلمان شہیدکیے گئے، یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جسے ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔انھوں نے کہا کہ یہ آزاد ہندستان جس کی فضاء میں ہم سانس لے رہے ہیں ،یہ آزادی ہمیں مفت میں حاصل نہیں ہوئی ، اس میں سب کی قربانی شامل ہے ، لیکن پچھلے ستر سالوں سے سبھی پارٹیاں اپنی تقریروں میں صرف ایک مسلم رہنما مولانا آزاد کانام شمارکرکے آگے بڑھ جاتی ہیں ، جو یقیناًملک کے لیے قربانی دینے والوں کے ساتھ احسان فراموشی کا عمل ہے ۔آخر انھیں علماء صادق پور و دیوبند، مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا عزیز گلؒ ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ وغیرہ جیسی شخصیات کیوں نہیں یادآتیں۔انھوں نے کہا کہ جس طرح کانگریس بحیثیت پارٹی کے آزادی کی جد وجہد میں شامل تھی ، اس سے کہیں زیادہ جمعےۃ علماء ہندنے آزادی کو اپنا مشن رکھا تھا۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ہمیں صرف ۱۵؍اگست صرف یو م آزادی کے لیے یاد نہیں کیا جانا چاہے بلکہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسی دن ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو معمار آزادی مہاتما گاندھی دہلی سے دوہزار وکلو میٹر دور نوالی کھالی بنگال میں فرقہ وارانہ فساد کو روکنے کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے ، جب انھیں خط کے ذریعہ معلوم ہوا تو انھوں نے جواب دیا کہ کلکتہ میں ہندو اور مسلم ایک دسرے کی جان لے رہے ہیں ان حالات میں آزادی کا جشن کس طرح منا سکتا ہوں ۔مولانا حکیم الدین نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ آج جب کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنارہی ہیں، ہمیں مہاتما گاندھی کے اس کردار کو زندہ کی ضرورت ہے ۔پروگرام کے آخر میں مولانا آصف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور بچوں کو مبارک باد دی او رمولانا شریف کی دعاء پر محفل اختتام پذیر ہوئی ۔پروگرام میں مذکورہ شخصیات کے علاوہ مفتی انیس احمد،قاری عبدالقادر ، حافظ ابوبکر ،مولانا سلمان،ماسٹر عبدالرزاق،حاجی نور محمد رائما ، ماسٹر بھرت، ماسٹر جاوید کے علاوہ ادارے کے سبھی اساتذہ شریک تھے ۔


Share: